dailymotion-domain-verification=dm67ezljlaa1ez90i Daily News | Daily news
Showing posts with label Daily News. Show all posts
Showing posts with label Daily News. Show all posts

Friday, July 22, 2016

میونخ میں ایک شاپنگ سینٹر پر فائرنگ

0 comments

میونخ میں ایک شاپنگ سینٹر پر فائرنگ

جنوبی جرمن شہر میونخ میں ایک شاپنگ سینٹر پر فائرنگ کے بعد پولیس نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جب کہ دس زخمی ہوئے ہیں۔ 

میونخ کی پولیس کی جانب سے ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے اور لوگوں سے اُس علاقے کی جانب جانے سے گریز کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ رواں ہفتے پیر کے روز صوبے باویریا ہی کے شہر ورزبرگ میں ایک افغان مہاجر نوجوان نے ایک ٹرین میں کلہاڑی اور چاقو کے وار کر کے تین افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ اسی تناظر میں باویریا صوبے سمیت جرمنی بھر میں سکیورٹی خاصی سخت ہے۔

Thursday, July 21, 2016

کشمیر: بھارتی فورسز نے تمام پاکستانی پرچم اتار دیے

0 comments

کشمیر: بھارتی فورسز نے تمام پاکستانی پرچم اتار دیے

بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے وہ تمام پاکستانی پرچم اتار دیے ہیں، جو پاکستان میں بھارت کے خلاف منائے جانے والے ’یوم سیاہ‘ کے موقع پر کشمیریوں نے اپنے گھروں پر لگائے تھے۔
پاکستان میں آج کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کے لیے منائے جانے والے ’یوم سیاہ‘ کے بعد بھارتی فورسز کو خوف ہے کہ ان کے زیر کنٹرول کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ’یوم سیاہ‘ منائے جانے کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے، ’’اسلام آباد کو بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے اور صورتحال کو غیر مستحکم بنانے سے باز رہنا چاہیے۔‘‘
دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیریوں اور بھارت سے آزادی مانگنے والے باغیوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
دریں اثناء پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’کشمیر کو کسی بھی صورت بھارتی کا اندرونی معاملے کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ پہلے ہی اسے ایک متنازعہ علاقہ قرار دے چکا ہے۔‘‘
پاکستانی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے دنیا سے کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ آج تک ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ گزشتہ گیارہ روز کے دوران بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد کشمیری نوجوانوں اور نابالغوں کی تھی جبکہ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ اس دوران زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد تقریباﹰ دو ہزار بنتی ہے جبکہ سولہ سو حکومتی سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والا ایک اور شخص آج سری نگر کے ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کی نماز جنازہ آج اس کے آبائی گاؤں میں ادا کر دی گئی ہے لیکن، جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جنازے میں شریک افراد نے پاکستان کے حق جبکہ بھارت کی مخالفت میں نعرے لگائے۔
نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق آج سری نگر میں بہت سے گھروں پر پاکستانی اور سیاہ پرچم لہراتے نظر آئے جبکہ حکومتی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام جھنڈے اتار دیے۔ اس نیوز ایجنسی کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر کے زیادہ تر حصوں سے معلومات حاصل کرنا ناممکن ہو چکا ہے کیوں کہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل ہے۔

اب تک پچاس ہزار سے زائد ترک اہلکار گرفتار یا برطرف

0 comments

اب تک پچاس ہزار سے زائد ترک اہلکار گرفتار یا برطرف

ترکی میں فوجی بغاوت کی حالیہ ناکام لیکن خونریز کوشش کے بعد سے اب تک پچاس ہزار کے قریب سرکاری اہلکاروں اور نجی ملازمین کو گرفتار یا برطرف کیا جا چکا ہے۔ ان وسیع تر گرفتاریوں پر عالمی سطح پرگہری تشویش بھی پائی جاتی ہے۔
ترک دارالحکومت انقرہ سے بدھ بیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ جمعے کی رات ترک فوج کے ایک دھڑے کی طرف سے مسلح بغاوت کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹنے کی جو کوشش کی گئی تھی، اس کے بعد سے پورے ملک میں مختلف شعبوں کے اب تک گرفتار یا برطرف کیے گئے سرکاری اور نجی ملازمین کی تعداد 50 ہزار ہو چکی ہے۔
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ان پچاس ہزار افراد میں سکیورٹی کے شعبے میں فرائض انجام دینے والے ہزاروں فوجی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ باقی کا تعلق ملکی عدلیہ اور تعلیم کے سرکاری اور نجی شعبوں سے ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن کی پارٹی کی موجودہ حکومت کی طرف سے غیر جمہوری اور باغیانہ سوچ رکھنے کے الزام میں جن ہزارہا سرکاری اہلکاروں کو برطرف یا گرفتار کیا گیا ہے، ان کے خلاف یہ اقدامات اس حکومتی پروگرام کا حصہ ہیں، جس کے تحت انقرہ چاہتا ہے کہ ملکی مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور ریاستی نوکر شاہی میں ’تطہیر‘ کا عمل مکمل ہونا چاہیے۔
اس تناظر میں بدھ کے روز صدر ایردوآن نے ایک طرف ناکام بغاوت کے بعد اگر پہلی مرتبہ ملکی سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ایک اجلاس کی صدارت کی تو دوسری طرف عالمی سطح پر اس بارے میں پائی جانے والی تشویش اور بھی زیادہ ہو گئی کہ ترکی میں سکیورٹی اور ریاستی نوکر شاہی میں ’صفائی‘ کے اس عمل کے ساتھ دراصل قانون کی حکمرانی کے اصول کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ایک ترجمان نے آج اس بارے میں کہا، ’’(ہزاروں گرفتاریوں کی صورت میں) ہم ہر روز ایسے نئے اقدامات دیکھ رہے ہیں، جن سے قانون کی بالادستی کے جمہوری ضابطے کی نفی ہوتی ہے اور جو اپنے حجم میں قطعی غیر متناسب ہیں۔‘‘
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے دوران ترکی میں 300 سے زائد افراد مارے گئے اور پورے ملک میں بے تحاشا مادی نقصان بھی ہوا۔ سب سے زیادہ نقصان دارالحکومت انقرہ میں ہوا، جہاں جنگی طیارے پروازیں کرتے رہے اور ہیلی کاپٹروں سے ملکی پارلیمان اور پولیس ہیڈکوارٹرز کی عمارات کو نشانہ بنایا گیا۔
انقرہ سے موصولہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں اب تک مسلح بغاوت اور ملک سے غداری کے الزام میں مسلح افواج اور عدلیہ کے جن ارکان کو برطرف کر کے حراست میں لیا جا چکا ہے، ان کی تعداد قریب ساڑھے نو ہزار بنتی ہے۔ ان میں 118 جرنیل اور ایڈمرل بھی شامل ہیں جبکہ باقی گرفتار شدگان یا تو فوج اور پولیس کے افسران اور ساپی ہیں یا پھر عدلیہ کے جج اور پراسیکیوٹرز۔
اس کے علاوہ آج بدھ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی وزارت تعلیم کے جن اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے، ان کی تعداد بھی مزید چھ ہزار کے اضافے کے ساتھ اب 22 ہزار ہو گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ21 ہزار کے قریب افراد کو نجی تعلیمی شعبے میں خدمات انجام دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ ان ہزاروں اساتذہ کے لائسنس بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں اور مستقبل میں وہ کسی ترک تعلیمی ادارے میں پڑھا بھی نہیں سکیں گے۔
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ترکی میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کس وسیع پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک ترک وزارت کھیل کے بھی قریب ڈھائی سو اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

ترکی میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ

0 comments

ترکی میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ

ترکی میں آج جمعرات سے تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ حالیہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد انقرہ حکومت مشتبہ منصوبہ سازوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے اکیس جولائی بروز جمعرات انقرہ حکومت کے ترجمان نعمان قرطولمس کے حوالے سے بتایا کہ اس ہنگامی حالت کا نفاذ دراصل ملک میں موجود ایک ’متوازی ریاستی ڈھانچے‘ کے خلاف لڑائی ہے۔
انقرہ حکومت یہ اصطلاح ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گؤلن اور ان کے حامیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ترک حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کا الزام بھی گؤلن پر عائد ہے، جو امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اسی دوران ترک نائب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے بنیادی شہری آزادیوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ایمرجنسی کی وجہ سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، اجتماعات اور آزادی صحافت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کی رات ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا تھا کہ ملکی فوج میں شامل تمام ’باغی عناصر‘ کا صفایا کر دیا جائے گا، ’’یہ اقدام (ہنگامی حالت) جمہوریت، قانون اور آزادی کے خلاف نہیں ہے۔‘‘
انقرہ میں صدارتی دفتر سے خطاب میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کا مقصد ملک میں جمہوری اقدار کا تحفظ اور مضبوطی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوجی بغاوت کی کوشش کے دوران ان افراد کی ہلاکتوں پر اظہار افسوس بھی کیا، جو باغی فوجیوں کے خلاف مزاحمت کے دوران پندرہ جولائی جمعے کی رات مارے گئے تھے۔
ترکی میں ہنگامی حالت کے نفاذ پر جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے انقرہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ناکام فوجی بغاوت میں شامل عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران قانون کی بالا دستی کو یقینی بنائے۔ قبل ازیں جرمن چانسلر بھی کہہ چکی ہیں کہ ترک حکومت کو اس مشکل صورتحال میں صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے قانون کا احترام کرنا چاہیے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ صدر ایردوآن اس ہنگامی حالت کے عرصے کے دوران مؤثر طریقے سے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ سولہ جولائی سے اب تک ترک حکام دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر چکے ہیں، جن میں اعلیٰ فوجی افسران، جج اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔
اس حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں چھ سو اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ہزاروں سرکاری ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ کئی حلقوں کے خیال میں ترک صدر کو موقع مل گیا ہے کہ وہ اس کریک ڈاؤن کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کو آسانی سے نشانہ بنا سکیں۔
صدارتی دفتر سے خطاب میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کا مقصد ملک میں جمہوری اقدار کا تحفظ اور مضبوطی ہے
ایردوآن کے حامیوں نے زور دیا ہے کہ اس ناکام فوجی بغاوت میں شریک افراد کو سزائے موت دی جائے۔ اگرچہ ترکی میں سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی عائد ہے لیکن ترک صدر نے کہا ہے کہ اگر ملکی پارلیمان اس پابندی کو ختم کرتی ہے، تو وہ اس کی اجازت دے دیں گے۔
اسی دوران یورپی یونین نے خبردار کر رکھا ہے کہ اگر ترک حکومت نے سزائے موت پر عائد پابندی کو ختم کیا تو مستقبل میں یورپی یونین میں شمولیت کی خاطر انقرہ کے ساتھ اب تک جاری مذاکرات ختم کر دیے جائیں گے۔

Tuesday, July 19, 2016

جرمنی، ٹرین میں خنجر اور کلہاڑی سے حملہ

0 comments
جرمنی، ٹرین میں خنجر اور کلہاڑی سے حملہ،
 چار شدید زخمی جرمنی میں ایک سترہ سالہ افغان پناہ گزین لڑکے نے ایک ٹرین میں مسافروں پر حملہ کرتے ہوئے چار افراد کو شدید زخمی کر دیا ہے۔ بعد ازاں پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جنوبی جرمن صوبہ باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان نے بتایا کہ افغان پناہ گزین خنجر اور کلہاڑی سے لیس تھا اور اس نے مسافروں کے زخمی کرنے کے بعد ٹرین سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ ان کے بقول پولیس کمانڈو کا ایک خصوصی دستہ اتفاقاً جائے وقوعہ کے قریب ہی موجود تھا اور اطلاع ملنے پر اس نے اس لڑکے کا پیچھا شروع کر دیا۔ اس دوران جیسے ہی اِس پناہ گزین نے پولیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو اُسے گولی مار دی گئی۔ ہیرمان نے بتایا کہ اس واقعے کا پس منظر جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ آیا یہ حملہ مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے کیا گیا ہے یا پھر اس کا کوئی اور سبب ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ ٹرین وُورزبرگ نامی شہر سے ٹروئشلنگن جا رہی تھی اور یہ واقعہ گزشتہ شب تقریباً سوا نو بجے پیش آیا۔ عینی شاہدین میں سے ایک شخص کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزین نے حملہ کرنے سے قبل اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا تاہم اس بیان کی دیگر کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ صوبہ باویریا کے وزیر داخلہ نے کہا کہ اسی بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید یہ مسلم انتہا پسندی کا ایک واقعہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ ٹرین میں کل پچیس مسافر سوار تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹرین میں سوار دیگر مسافروں میں کسی کو کوئی زخم تو نہیں آیا ہے تاہم وہ سکتے کی حالت میں ہیں۔ پولیس کے مطابق شدید زخمی ہونے والے چار افراد کا تعلق ہانگ کانگ سے ہے جبکہ ایک خاتون حملہ آور کو روکنے کی کوشش کے دوران معمولی سی زخمی ہوئی ہیں۔ تمام زخمیوں کا وُورزبرگ کے ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ حملہ آور کے بارے میں اتنا معلوم ہو سکا ہے کہ ابھی کچھ دن قبل ہی اس لڑکے کو پناہ گزینوں کے ایک مرکز سے نگہداشت کرنے والے ایک خاندان کے پاس منتقل کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس لڑکے کے کمرے میں موجود اشیاء کو جائزہ لینے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یہ کن افراد سے رابطے میں تھا اور اس نے انٹرنیٹ پر کون کون سی ویب سائٹس کو دیکھا تھا۔

شمالی کوریا کے بیلاسٹک میزائل کے تجربات، عالمی سطح پر مذمت

0 comments

شمالی کوریا کے بیلاسٹک میزائل کے تجربات، عالمی سطح پر مذمت

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیلاسٹک میزائل کے تین نئے تجربات کیے ہیں۔ عالمی برداری نے کمیونسٹ ریاست کے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جنوبی کوریا کے میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی کوریا نے انیس جولائی بروز منگل بیلاسٹک میزائل کے نئے تجربات کیے ہیں۔
ناقدین کے مطابق یہ تین نئے تجربات دراصل جنوبی کوریا میں امریکا کی طرف سے دفاعی میزائل نصب کرنے کا ردعمل ہو سکتے ہیں۔
شمالی کوریا کی طرف سے ان تجربات کے فوری بعد جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا نے مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔ عالمی برداری کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے اس ٹیکنالوجی کے تجربات علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ منگل کی صبح بحیرہ جاپان میں فائر کیے گئے دو سکڈ میزائل پانچ تا چھ سو کلو میٹر دور جا کر گرے جبکہ تیسرا Rodong میزائل ایک گھنٹے کی تاخیر سے فائر کیا گیا۔
اس بیلاسٹک میزائل کی قوت جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ سکڈ میزائل جنوبی کوریا کے کسی بھی علاقے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جنوبی کوریا میں امریکی میزائل شکن نظام کی تنصیب کے اعلان کے بعد گزشتہ ہفتے ہی پیونگ یانگ نے خبردار کیا تھا کہ وہ اس پیش رفت پر ’عملی جواب‘ دے گا۔ یہ کمیونسٹ ریاست ایسے تجربات کو اپنا حق قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ یہ صرف ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان گیری جونز نے اس تازہ پیش رفت پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہم شمالی کوریا کے ان تازہ میزائل تجربات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداروں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘‘
دوسری طرف جاپانی وزارت دفاع نے شمالی کوریا کے ان تجربات کو علاقائی سلامتی اور امن کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنی اتحادی ممالک کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں رابطہ کاری کرے گا۔
امریکا میں سکیورٹی ماہرین نے گزشتہ ہفتے ہی خبردار کیا تھا کہ جزیرہ نما کوریا میں ہونے والی تازہ پیش رفتوں کے نتیجے میں شمالی کوریا کی جوہری سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔
جان ہوپکنز یونیورسٹی کے ’یو ایس ۔ کوریا انسٹی ٹیوٹ‘ کے مطابق ایسے امکانات ہیں کہ شمالی کوریا اپنے پانچویں جوہری تجربے کی تیاری میں ہے۔

اویس علی شاہ کے اغوا میں طالبان اور القاعدہ ملوث تھے

0 comments

اویس علی شاہ کے اغوا میں طالبان اور القاعدہ ملوث تھے

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس علی شاہ کو خیبر پختونخواہ کے علاقے ٹانک سے ایک خفیہ آپریشن میں شدت پسندوں سے بازیاب کرالیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کار اویس علی شاہ کو برقعہ پہنا کر ڈیرہ اسماعیل کی طرف لے جا رہے تھے۔ ٹانک جانے والے راستے میں ایک چیک پوسٹ پر ایک نیلے رنگ کی گاڑی چیکنگ کے لیے چوکی پرنہیں رکی اور ڈرائیور نے گاڑی کو بھگانے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی افواج کے اہلکار نے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اس گاڑی میں سے مزید دو اغوکار بھی تھے جنہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم انھیں بھی ہلاک کر دیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ فوج کے پاس اویس شاہ کی ٹانک کے علاقے میں موجودگی کے شواہد تھے۔ عاصم باجوہ نے اویس شاہ کی بازیابی کی تصدیق پیر کو رات گئے ٹوئٹر پر کر دی تھی۔

کیا عمران خان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا؟

0 comments

کیا عمران خان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا؟

عمران خان نے ایک تازہ بیان سے پاکستان کے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھانے کی کوشش کی۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران ایک جلسے میں کہا کہ اگر ترکی میں نواز شریف ہوتے تو وہاں مارشل لاء کامیاب ہوجاتا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب مشرف اقتدار میں آئے تو کتنے لوگ باہر نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ جمہوری وزیرِ اعظم کو بچاتے ہیں اور جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ نواز شریف کی بادشاہت سے ہے۔ اتوار کو عمران خان نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان میں فوج آئی ، تولوگ خوشیاں منائیں گے۔
ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی تھی اور ان کے مخالفین کے علاوہ کئی ان کے سابق دوستوں کو بھی یہ بیان پسند نہیں آیا تھا۔ آج کے جلسے میں عمران خان نے جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئےکہا اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو وہ اتنا بڑا مظاہرہ کریں گے جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ سابق کرکڑ نے جمہوریت کو بہترین نظام بھی قرار دیا۔
نواز شریف اپنے سیاسی حلیفوں کی ایک میٹنگ میں

عمران کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے کہا، ''عمران خان برطانیہ میں رہے ہیں اورانہوں نے تعلیم بھی وہیں حاصل کی ہے لیکن انہوں نے نہ جمہوریت کے ارتقاء کو سمجھا اور نہ اس کی اہمیت کو، عمران خان کی یہ غلط فہمی ہے کہ فوج کرپشن کو ختم کرنے کے لئے اقتدار میں آتی ہے، آرمی کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں اقتدار میں آنے کے لئے اور طاقت حاصل کرنے کے بعد وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اس وقت پاکستان میں آمریت کو قبول نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر توصیف کے مطابق، ’’ ترکی میں فوجی انقلاب کی ناکامی اس بات کی غماز ہے کہ نہ ہی لوگ آمریت چاہتے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی برادری اسے قبول کرے گی۔ امریکہ نے پہلے ہی اپنے اداروں کے ذریعے پاکستان پر دباو ڈالا ہوا ہے اور اگر ایسے میں جمہوریت کو چھیڑا گیا تو ملک کے لئے اور مسائل کھڑے ہوجائیں گے۔ ‘‘
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کئی ناقدین کا خیال ہے کہ عمران کا طرزِ سیاست انتہائی طفلانہ ہے اور ان کے بیانات میں سیاسی پختگی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’کئی لوگ اُن سے اب مایوس ہیں، ان کے چاہنے والوں کو یہ سن کر بھی حیرت ہوئی ہوگی کہ وہ جنرل حمید گل کے ساتھ عبدالستار ایدھی کو دھمکی دینے کے لئے گئے تھے۔ ایدھی نے خود اپنے انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا۔ ‘‘
نواز حکومت کے خلاف اپوزیشن کا ایک جلسہ

عمران خان پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مرکزی نائب صدر ناز بلوچ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم ایک جمہوریت پسند جماعت ہیں اور مارشل لاء کی حمایت نہیں کرتے، فوج کے اچھے کاموں کی حمایت کرتے ہیں جیساکہ کراچی آپریشن اور ضربِ عضب جس سے ملک میں امن قائم ہوا۔‘‘ خاتون سیاستدان کے مطابق خان صاحب نے واضح کیا ہے کہ اگر جمہوریت کے خلاف کوئی کام ہوا توہم اس کی بھر پور مزاحمت کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کا بیان کیا جارہا ہے۔''پارٹی چیئرمین نے مارشل لا کی حمایت نہیں کی بلکہ وہ بتا رہے تھے کہ طیب اردوآن کی حمایت میں لوگ اس لئے نکلے کہ وہ ایک صاف و شفاف انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئے ہیں، طیب اردوآن نے جمہوریت کو مضبوط کیا، تعلیم پر پیسہ خرچ کیا، صحت کے نظام کو بہتر بنایا، معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا۔‘‘ پی ٹی آئی کی نائب صدر اپنے پارٹی چیرمین کے بیان کی وضاحت میں کہا،’’ نواز شریف نے عوام کی خدمت نہیں کی، اسی لئے خان صاحب نے کہا کہ اگر پاکستان میں فوج آئی تو لوگ اس پر خوش ہوں گے اور یہ صرف دو حکومتوں کا موازنہ ہے ناکہ قطعی مقصد آمریت کی حمایت کرنا۔‘‘

Monday, May 9, 2016

روسی موٹر سائیکلسٹ کے متنازعہ گروپ کی برلن آمد

0 comments

روسی موٹر سائیکلسٹ کے متنازعہ گروپ کی برلن آمد

روسی موٹر سائیکل سواروں کا ایک معروف گروپ نائٹ وولز جرمن دارالحکومت برلن پہنچ گیا ہے۔ اس گروپ کی جرمن آمد کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 
نائٹ وولز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قوم پرست روسیوں کا ایک گروپ ہے اور اسے صدر ولادی میر پوٹن کے ’ہیل اینجلز‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہیل اینجلز موٹر سائیکل سواروں اور روک میوزک پسند کرنے والوں کا ایک بین الاقوامی گروپ ہے، جس پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق نائٹ وولز انتیس اپریل کو ماسکو سے روانہ ہوئے تھے اور اتوار کی شب برلن پہنچے۔ یہ گروپ اُسی راستے سے ہوتا ہوا برلن پہنچا، جو 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت فوجوں نے جرمنی میں داخل ہونے کے لیےاپنایا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ نائٹ وولز کے گروپ میں کوئی دو سو موٹر سائیکل سوار شامل ہیں۔ یہ لوگ برلن کے مشہور زمانہ برانڈنبرگ دروازے پر سوویت فوجیوں کی یاد میں تعمیر کی گئی ایک یادگار پر پھول چڑھائیں گے۔ گزشتہ برس بھی یہ گروپ برلن آیا تھا تاہم سفری پابندیوں کی وجہ سے اس کے کچھ ہی ارکان جرمنی پہنچ پائے تھے۔
نائٹ وولز نے 2014ء میں یوکرائن کے علاقے کریمیا میں روسی مداخلت اور قبضے کی حمایت کی تھی، جس کے بعد سے اسے ایک متنازعہ گروپ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ روسی صدر ولادی مپر پوٹن نائٹ وولز کی کھل کر حمایت کرتے ہیں جبکہ وہ بھی کئی مرتبہ ان کے ساتھ ہی موٹر سائیکل چلا چکے ہیں۔


چین میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک، 25لاپتہ

0 comments

چین میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک، 25لاپتہ

جنوبی چین میں ایک پن بجلی منصوبے کے مقام پر پیر کے روز ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والے چودہ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ دو روز سے جاری شدید بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ کے نتیجے میں پچیس افراد تاحال لا پتہ ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ماہرین اور امدادی کارکنان 100.000 مکعب میٹر حجم کے اس پہاڑ کے ایک حصے سے گرنے والے پتھروں اور مٹی کے تودوں کو ہٹانے اور زندگی کے آثار کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اتوار کی صبح ایک دفتری عمارت مٹی کے تودے کی زد میں آگئی تھی، جب کہ اس میں موجود مزدورں ملبے تلے دب گئے تھے۔ اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص ڈینگ چن وو نے چین کے سرکاری خبر رساں ادارےشِنہواکو بتایا، ’’ہم سو رہے تھے، جب پہاڑ بہت زور سے ہلنے لگے اور اس سے پہلے کہ ہم کچھ سمجھ پاتے، ہمارے گھر میں ریت اور مٹی بھر چکی تھی۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ڈینگ اور دیگر تین مزدوروں نے ایک ستون کے نیچے سمٹ کر اپنی جان بچائی۔ چینی نیوز ایجنسی اور سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے بہت سے افراد ہڈیاں ٹوٹنے اور دوسری چوٹیں آنے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس اور آگ بجھانے والے کارکنوں سمیت 600 سے زائد امدادی کارکن، لاپتہ افراد کی تلاش اور جائے حادثہ کو جانے والی سڑکوں کی صفائی کی کوشش کرتے رہے ہیں، جو سیلاب اور مٹی کے تودوں کی وجہ سے بند تھیں اور بھاری مشینری کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر رہی تھیں۔ ضلعی محکمے کے ایک سرکاری اہلکار کے مطابق اس تازہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی تاہم یہ علاقہ گزشتہ چند برسوں میں وقفے وقفے سے شدید بارشوں کا شکار ہے۔

خواب خوگوش کے سب سے زیادہ مزے کونسی قوم لوٹتی ہے؟

0 comments

خواب خوگوش کے سب سے زیادہ مزے کونسی قوم لوٹتی ہے؟

محققین نے پہلی مرتبہ ایک ایپ کی مدد سے دنیا کی مختلف اقوام کی سونے کی عادات سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔ اس دوران ہر منٹ اور سیکنڈ تک کا حساب رکھا گیا ہے۔ 
اس تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری میں ہزاروں رضاکاروں نے حصہ لیا۔ نتیجے کے مطابق جاپان اور سنگاپور کے شہریوں کی رات کی نیند سب سے زیادہ ہے اور یہ لوگ اوسطاً سات گھنٹے اور چوبیس منٹ سوتے ہیں۔ تاہم ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں ہالینڈ کے شہری خواب خرگوش کے سب سے زیادہ مزے لوٹتے ہیں۔ ولندیزی شہریوں کی رات کی نیند آٹھ گھنٹے اور بارہ منٹ ہے۔ جرمن شہری سات گھنٹے اور پینتالیس منٹ کے ساتھ اُن دیگر بیس ممالک کے شہریوں سے کم سوتے ہیں، جن کا اس رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ سونے کی عادات جاننے کے لیے یونیورسٹی مشیگن کے محققین نے خود ایک ایپ تیار کی، جسے ’انٹرٹین‘ کا نام دیا گیا۔ یہ نتائج ’سائنسس ایڈوانسس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں سونے کی عادات کے حوالے سے دنیا بھر کی اقوام میں کوئی بہت واضح فرق سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکی محقق اولیویا والش کہتی ہیں کہ ہر آدھے گھنٹے کی نیند کا انسانی دماغ کی کارکردگی پر بہتر اثر پڑتا ہے جبکہ اس کے صحت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس رپورٹ کی تیاری میں تقریباً ساڑھے پانچ ہزار رضاکاروں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس دوران یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ نیند کا تعلق صرف تھکاوٹ سے نہیں ہوتا بلکہ ماحول اور سماجی معیارات سے بھی ہے۔ اس کے علاوہ نوکری اور بچوں کو اسکول کے لیے جگانے جیسی ذمہ داریاں بہرحال صبح اٹھنے کی وجوہات میں شامل ہیں تاہم کسی شخص کی بائیولوجیکل کلاک یا حیاتیاتی گھڑی بھی نیند سے اٹھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔


ايک تہائی يورپی شہری يورپی يونين سے اخراج کے حق ميں، سروے

0 comments

ايک تہائی يورپی شہری يورپی يونين سے اخراج کے حق ميں، سروے

يورپی يونين کی آٹھ بڑی رياستوں ميں ووٹروں کی تقريباً نصف تعداد اس بات کی خواہاں ہے کہ انہيں بھی برطانوی عوام کی طرح يورپی بلاک ميں رہنے يا اس سے اخراج کے بارے ميں ووٹ ڈالنے کا حق ديا جائے۔ 
خبر رساں ادارے روئٹرز کی برطانوی دارالحکومت لندن سے پير نو مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق بيلجيم، فرانس، جرمنی، ہنگری، اٹلی، پولينڈ، اسپين اور سويڈن ميں قريب پينتاليس فيصد باشندے يہ خواہش رکھتے ہيں کہ وہ يورپی يونين کی رکنيت کے حوالے سے فيصلہ کرنے کے اہل ہوں۔ يہ انکشاف پير نو مئی کو جاری ہونے والے رائے عامہ کے ايک تازہ جائزے کے نتائج ميں کيا گيا ہے۔ Ipsos-MORI نامی کمپنی کی جانب سے کرائے جانے والے اس سروے ميں اٹھائيس رکنی يورپی يونين کے نو ملکوں ميں تقريباً چھ ہزار افراد سے ان کی رائے لی گئی۔
عوامی جائزے کے نتائج کے مطابق ان ممالک کی تقريباً ايک تہائی آبادی موقع ملنے پر يورپی يونين سے اخراج کے حق ميں ووٹ ڈالے گی۔ يہ امر اہم ہے کہ اخراج کے حق ميں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح سب سے زيادہ اٹلی اور فرانس ميں پائی جاتی ہے۔ اس جائزے ميں شامل افراد ميں سے اڑتاليس فيصد اطالوی شہريوں اور تقريباً اکتاليس فيصد فرانسيسی شہريوں نے يورپی بلاک سے عليحدگی اختيار کرنے کے حق ميں ووٹ ڈالے۔ اس کے برعکس پولينڈ کے صرف بائيس اور اسپين کے چھبيس فيصد رائے دہندگان نے اس سروے ميں اخراج کو ترجيح دی۔
Ipsos-MORI ميں سماجی تحقيق سے متعلق محکمے کے سربراہ بوبی ڈف کے بقول، ’’خاص طور سے اطالوی شہری يہ اميد رکھتے ہيں کہ وہ بھی يورپی يونين کی رکنيت کے حوالے سے رائے دہی کے عمل ميں شريک ہو سکيں گے۔ اس سے اس تاثر کو تقويت ملتی ہے کہ اگر جون ميں برطانيہ ميں ہونے والے ريفرنڈم ميں عوام يورپی يونين ميں ہی رہنے کا فيصلہ کرتے بھی ہيں، تو بھی يہ يورپی يونين کے مسائل کا اختتام نہيں ہو گا۔‘‘
اٹلی ميں اسٹيبلشمنٹ مخالف ’فائيو اسٹار موومنٹ‘ ملک ميں دوسری سب سے بڑی سياسی قوت بن چکی ہے اور يہ تحريک يورو کرنسی زون سے اخراج چاہتی ہے۔ اسی دوران فرانس ميں دائيں بازو کی جماعت نيشنل فرنٹ بھی ايک ہی کرنسی نہيں چاہتی۔
Ipsos-MORI کی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے اس جائزے کے نتائج ميں يہ بھی سامنے آيا ہے کہ آٹھ رکن ممالک ميں انچاس فيصد لوگ يہ سمجھتے ہيں کہ برطانوی شہری تيئس جون کو ہونے والے ريفرنڈم ميں يورپی يونين سے اخراج کے حق ميں ووٹ ڈاليں گے۔ واضح رہے کہ برطانيہ ميں داخلی سطح پر کرائے جانے والے اس طرح کے جائزوں کے مطابق پينتيس فيصد عوام ريفرنڈم ميں يورپی يونين سے اخراج کے حق ميں فيصلہ کر سکتے ہيں۔
يورپی ممالک ميں چھتيس فيصد لوگوں کی رائے ميں يورپی يونين سے ممکنہ اخراج کی صورت ميں برطانيہ کی معيشت منفی انداز سے متاثر ہو گی جبکہ اکاون فيصد کی رائے ميں اس پيش رفت کے يورپی اقتصاديات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سروے ميں شامل اڑتاليس فيصد ووٹروں کا خيال ہے کہ برطانيہ کے يورپی بلاک سے ممکنہ اخراج کے نتيجے ميں مستقبل ميں مزيد يورپی رياستيں اسی راہ پر چلتے ہوئے بلاک سے عليحدگی کا فيصلہ کر سکتی ہيں۔


اسلامک اسٹیٹ‘ انتہا پسند تنظیم ہے: القاعدہ

0 comments

اسلامک اسٹیٹ‘ انتہا پسند تنظیم ہے: القاعدہ

ایک نئے آڈیو پیغام میں القاعدہ کے سربراہ نے شام میں جہادیوں کو پوری طرح متحد رہنے کی تلقین کی ہے۔ اِس کے علاوہ سخت عقیدے کی حامل القاعدہ نیٹ ورک کے سربراہ نے مخالف عسکری گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو انتہا پسند قرار دیا ہے۔ 
ڈاکٹر ایمن الظواہری نے شام میں جہادی فائٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد پیدا کریں بصورت دیگر انہیں ہلاکت کے خطرے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اپنے تازہ ویڈیو پیغام میں الظواہری نے ایک دوسرے بڑے عسکریت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو انتہا پسند قرار دیا ہے۔ القاعدہ کے سربراہ کا آڈیو پیغام اتوار کی شام کو آن لائن جاری کیا گیا ہے۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد مصر سے تعلق رکھنے والے ایمن الظواہری نے القاعدہ کے نیٹ ورک کی سربراہی سنبھالی تھی۔
ایمن الظواہری نے اپنے صوتی پیغام میں کہا کہ شام میں مجاہدین کے درمیان اتفاق اور اُن کا متحد رہنا بہت ضروری ہے اور اِس کی بدولت اِس ملک کو روسی اور مغربی قابض قوتوں سے آزادی میسر ہو سکے گی۔ انہوں نے اتفاق و اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ موت و حیات کا معاملہ ہے، اس کی بدولت زندگی حاصل ہو گی ورنہ موت فائٹرز کے تعاقب میں ہے۔ اِس پیغام میں انہوں نے شام میں امن قائم کرنے کی اقوام متحدہ کو کوششوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ القاعدہ کے سربراہ نے النصرہ فرنٹ کی عملی کارروائیوں کی بھی تعریف کی ہے۔
اِسی آڈیو پیغام میں ڈاکٹر ایمن الظواہری نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو انتہا پسند اور مذہبی اقدار کی باغی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ یہ اپنی شناخت گنوا دے گی۔ رواں برس جنوری کے بعد القاعدہ کے سربراہ کا یہ پہلا پیغام ہے اور ابھی اِس کے درست ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ جنوری میں سعودی عرب میں کئی انتہا پسند دہشت گردوں کو موت کی سزا دینے کے بعد الظواہری نے سعودی مملکت سے انتقام کا پیغام جاری کیا تھا۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے کسی انتہائی خفیہ مقام پر ٹھکانہ بنائے روپوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
یہ امر اہم ہے کہ جزیرہ نما عرب، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں کئی جہادی تنظیموں نے ایمن الظواہری کی بیعت کے ساتھ ساتھ وفاداری نبھانے کا عہد کر رکھا ہے۔ جنگی حالات کے شکار ملک شام میں النصرہ فرنٹ کو القاعدہ کی ایک شاخ قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے شام اور عراق میں ایک وسیع پٹی پر قابض ہونے کے علاوہ لیبیا اور یمن میں بھی اپنے قدم جما لیے ہیں۔


’غير مسلم پناہ گزين ديگر مہاجرين کے رحم و کرم پر‘

0 comments

’غير مسلم پناہ گزين ديگر مہاجرين کے رحم و کرم پر‘

جرمنی ميں سرگرم مسيحيوں کی ايک بين الاقوامی تنظيم نے اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں انکشاف کيا ہے کہ مہاجر کيمپوں ميں مذہبی اقليتوں سے تعلق رکھنے والے تارکين وطن کو فراہم کردہ تحفظ ناکافی ہے۔ 
اس رپورٹ کے ليے جرمنی ميں قيام پذير 231 مسيحی پناہ گزينوں سے سوال جواب کيا گيا، جس ميں سے نصف سے زائد تعداد نے دعوی کيا ہے کہ مسلمان تارکين وطن اور گارڈز نے ان کے ساتھ غلط برتاؤ کيا يا ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھايا ہے۔ يہ انکشاف عالمی سطح پر مسيحيوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافيوں پر نظر رکھنے والی ’اوپن ڈورز جرمنی‘ نامی ايک بين الاقوامی تنظيم نے پير نو مئی کو جاری کردہ اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں کيا ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ مطالعے ميں شامل کردہ اکثريتی پناہ گزينوں کا تعلق افغانستان اور ايران سے تھا۔
جرمن دارالحکومت برلن ميں ايک پروٹيسٹنٹ وزير کے بقول ايک مرتبہ مسيحی مہاجرين کو مسلمانوں کی نماز ميں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے دھمکياں دی گئيں۔ ’اوپن ڈورز جرمنی‘ نے حکام کو تجويز دی ہے کہ مسيحی، يزيدی اور ديگر غير مسلم پناہ گزينوں کو علیحدہ اور مخصوص مراکز ميں الگ رکھا جائے۔

ہٹلر کے مجسمے کی قیمت لاکھوں ڈالر

0 comments
ہٹلر کے مجسمے کی قیمت لاکھوں ڈالر
ایڈولف ہٹلر کے ایک مجسمے کی نیلامی میں خریدار نے سترہ ملین ڈالر سے زائد کی بولی لگائی ہے۔ نازی حکومت کے سربراہ کا یہ مجسمہ ایک اطالوی سنگ تراش نے تخلیق کیا تھا۔
ہٹلر کے مجسمے کی نیلامی مشہور نیلام گھر ’کرسٹیز‘ میں کی گئی۔ ایسے اندازے لگائے گئے تھے کہ گھٹنے پر بیٹھے ہٹلر کے اِس مجسمے کی نیلامی کم سے کم دس ملین ڈالر اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ملین ڈالر میں ممکن ہو سکے گی۔ ہٹلر کے مجسمے کو اٹلی کے مشہور سنگتراش ماریزو کاٹیلان نے تخلیق کیا تھا۔ اِس سے قبل کاٹیلان کے ایک مجسمے کی قیمت تقریباً آٹھ ملین ڈالر لگی تھی۔ لیکن ہٹلر کے مجسمے کو خریداروں کی جانب سے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
ماریزو کاٹیلان کے مجسمے کا سائز ایک نوعمر لڑکے جتنا ہے اور اُس میں نازی دورِ حکومت کے سربراہ کو گرے سوٹ میں ملبوس گھٹنوں پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے اور وہ آسمان کی طرف سر اٹھائے کسی سوچ میں گم ہے۔ مجسمے میں دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے پیوست دکھایا گیا ہے۔ اِس مجسمے کو اطالوی تخلیق کار نے سن 2001 میں مکمل کیا تھا۔ اِس مجسمے کی آخری اور کامیاب بولی 17.2 ملین ڈالر لگائی گئی۔ کاٹیلان کی عمر اِس وقت پچپن برس ہے اور وہ انتہائی ماہر سنگتراش تصور کیے جاتے ہیں۔
کرسٹیز نیلام گھر میں قدیمی و جدید مصوری و سنگتراشی کے شاہکار فروخت کرنے کا ایک سلسلہ شروع ہے۔ اِس میں انتالیس جدید اور قدرے پرانے شاہکار نیلامی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اِس سلسلہ کا نام ’باؤنڈ ٹُو فیل‘ رکھا گیا ہے اور اِس کی وجہ یہ خدشات تھے کہ یہ شاہکار کوئی بڑی قیمت یا خریداروں کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ کرسٹیز آکشن ہاؤش کے نائب چیرمین لوئک گُوزر کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی مشکل اور پیچیدہ نیلامی کا سلسلہ ہے۔ انہوں نے ابتداء ہی میں اِس کے کامیاب ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
کرسٹیز کے نائب چیئرمین لوئک گُوزر نے ہٹلر کے مجسمے کی نیلامی کے حوالے سے کہا کہ جدید تاریخ میں ہٹلر کا کردار ایسا ہے کہ کوئی بھی تخلیق کار اُسے چھونے کی کوشش کرنے سے قبل کئی مرتبہ سوچے گا۔ رواں ہفتے کے دوران کرسٹیز پر ڈیڑھ ہزار سے زائد قدیمی اشیاء کی بھی نیلامی کی جائے گی۔ ہٹلر کے مجسمے کے ساتھ امریکی مصور جیف کُونز کی ایک پینٹنگ پندرہ ملین ڈالر سے زائد میں فروخت ہو چکی ہے۔
ہٹلر کا مجسمہ تخلیق کرنے والے ماریزو کاٹیلان کا کہنا تھا کہ وہ اِس مجسمے کو مکمل کرنے سے قبل کئی مرتبہ اِسے پوری طرح توڑ دینے کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن وہ کسی وجہ سے نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق ہر روز میرے اندر اِس مناسبت سے ایک جنگ رہتی تھی لیکن انجام کار یہ مجسمہ بن ہی گیا۔ کاٹیلان نے ہٹلر کو خوف کا استعارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شدید درد کی کیفیت کا احساس ہے اور اِس نام کو زبان سے نکالتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے۔

پاناما لیکس: نئی فہرست میں 400 پاکستانیوں کے نام

0 comments

پاناما لیکس: نئی فہرست میں 400 پاکستانیوں کے نام

پاناما لیکس کی دوسری قسط جاری کردی گئی ہے۔ نئی فہرست کے مطابق چار سو پاکستانی شہری آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ لیکن اس بار کاروباری افراد اور شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد کے بھی بلواسطہ طور پر نام سامنے آئے ہیں۔ 
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پہلی قسط میں وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کو جواز بناکر حکومت مخالف تحریک چلا رہے ہیں۔ لیکن جہانگیر ترین کے بعد عمران خان کے دو مزید ساتھیوں علیم خان اور لندن میں مقیم ذوالفقار عرف زلفی بخاری بھی آف شور کمپنیوں کے مالک نکلے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے دو مزید قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آنے سے سیاسی طور پر عمران خان کو فائدہ اور نواز شریف کو فائدہ ہوگا۔
نئی فہرست میں پیپلز پارٹی کی مرحوم چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے عزیز کے علاوہ آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے مشترکہ دوست عرفان اقبال پوری، آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کی والدہ صبا عبید، پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق سربراہ عبدالستار ڈیرو، کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شوکت احمد اور بزنس ریکارڈر گروپ کے چیئرمین وامق زبیری اور ان کی اہلیہ سمیت کئی دیگر معروف کاروباری شخصیات کے بھی نام سامنے آئے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ آف شور کمپنی کا نام اور شیئرز کی ویلیو ڈکلیئر کرچکے ہیں: ’’میں ایف بی آر کو اپنی کمپنیوں کی فہرست دے چکا ہوں۔ پانامہ لیکس میں میرا نام تیسری مرتبہ آیا ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پانامہ پیپرز کے پاس صرف میرا ہی نام ہے اور حکومت کے دن رات میرے خلاف تحقیقات میں گزر رہے ہیں۔‘‘
فلم ساز شرمین عبید چنائے نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’کمپنی اگر میری والدہ کے نام پر ہے تو میڈیا میرا نام کیوں اچھال رہا ہے۔‘‘ وامق زبیری نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کسی آف شور کمپنی کے مالک نہیں ہیں: ’’1990ء میں میں نے تین ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور دھوکا ہونے پر مزید سرمایہ کاری نہیں کی۔‘‘
انٹرنیشنل کنسوشیم فار انوسٹی گیٹو جرنلسٹس کے رکن عامر لطیف نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’آف شور کمپنی رکھنا ٹیکس چوری نہیں، ٹیکس چوری بڑا اور سنگین الزام ہے اور قانونی طورپر آف شور کمپنی کو ٹیکس ریلیکسیشن کا نام دیا جاسکتا ہے اور اس میں بیورو کریٹس، کاروباری اور تجارتی شخصیات اور سیاستدانوں سمیت تھوڑی بہت رقم رکھنے والے عام شہریوں نے بھی آف شور کمپنیاں بنائی ہوئی ہیں۔‘‘
معروف قانون دان علی ظفر کہتے ہیں کہ آف شور کمپنی رکھنا یا اس کے ذریعے باہر جائیداد بنانا غیر قانونی نہیں تاہم اسے ڈکلیئر کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ڈکلیئریشن نہ دینے والا قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے جس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور کہیں غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیا گیا پیسہ وائٹ کرنے کی کوشش میں تو کمپنی قائم نہیں کی گئی۔ پاکستانی ادارے اس حوالے سے شفاف تحقیقات نہیں کرسکتے کیونکہ اس معاملے میں بہت با اثر سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں لہذا ہم نے آزاد کمیشن تشکیل دینے کا مشورہ دیا ہے جو باہر جاکر تحقیقات کرسکے۔ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پاس ایسا اختیار ہے کہ وہ کارروائی کرسکتا ہے تاہم وہ کاروباری افراد کے خلاف ہی کاروائی کریں گے، البتہ سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈالنا ان کے لیے بھی مشکل ہوگا۔‘‘
معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں، ’’آف شور کمپنی کے معاملے کو سیاسی طور استعمال کیا جارہا ہے جن ملکوں میں یہ کمپنیاں بنائی گئی ہیں وہاں یہ کمپنیاں قانونی ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر آدمی نے ٹیکس چوری کے لیے ہی کمپنی قائم کی ہو یا وہ بدعنوان ہو۔ کسی کی ماں بھائی بیٹے یا بیٹی کی ملکیت کو جواز بناکر ہر منفی تاثر دینا صحیح نہیں ہے یہ ایک بہت طویل قانونی جنگ ہے جسے قانونی محاذ پر ہی لڑا جانا چاہیے کیونکہ ہر ملک کے قانون الگ ہیں۔‘‘


آسٹریا کے چانسلر مستعفی ہو گئے

0 comments

آسٹریا کے چانسلر مستعفی ہو گئے

یورپی ملک آسٹریا کے چانسلر ویرنر فے مان نے چانسلر کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کو چھوڑنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ 
ویرنر فے مان نے آج پیر کے روز چانسلر کے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بعض سیاسی حلقوں کے مطابق آسٹریا کے صدارتی الیکشن میں انتہائی قدامت پسند سیاست دان کی پہلے راؤنڈ میں کامیابی سے عیاں ہو گیا تھا کہ ویرنر فے مان اطمینان کے ساتھ چانسلر کے عہدے پر مزید براجمان نہیں رہ سکیں گے۔ اُن کی ترجمان آنیا رِیشٹر نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فے مان نے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ رِیشٹر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ چانسلر نے سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPO) کی قیادت سے بھی علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چانسلر اور پارٹی کے عہدوں سے دست بردار ہونے کا اعلان کرنے سے قبل ویرنر فےمان نے اپنی جماعت کے سنیئر اراکین کے اجلاس میں شرکت کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ اس اجلاس میں انہوں نے پارٹی اراکین پر واضح کیا کہ وہ پارٹی میں عدم حمایت کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہنگامی طور پر طلب کی گئی پریس کانفرنس میں اُن کی ترجمان آنیا رِیشٹر نے بتایا کے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایک نئے اور زوردار انداز میں کاربارِ سیاست کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق قدامت پسند سیاسی جماعت کی مقبولیت کے بعد سوشل ڈیموکریٹک پارٹی دھڑے بندی کا شکار ہو رہی تھی۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت چھوڑنے کے حوالے سے مستعفی ہونے والے چانسلر کو اِس کا احساس ہوگیا تھا کہ انہیں پارٹی کے اندرونی حلقے کا مکمل اعتماد حاصل نہیں رہا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فے مان کو ملکی ٹریڈ یونینوں کی جانب سے بھی مختلف پالیسیوں کے حوالے سے دباؤ کا سامنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں پناہ گزینی کی پالیسی پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے تناظر میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے یوتھ ونگ کے شدید پریشر کا بھی اندازہ ہو گیا تھا۔ صدارتی الیکشن میں مایوس کن کارکردگی پر پارٹی کے اراکین میں عدم اعتماد پیدا ہو گیا تھا۔
یہ امر اہم ہے کہ آسٹریا میں گزشتہ چند ماہ کے دوران انتہائی دائیں بازو کی قدامت پسند جماعت فریڈم پارٹی کی مقبولیت اور عوامی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یورپ کے سیاسی مبصرین نے فےمان کے مستعفی ہونے کو مہاجرین کے بحران کے ساتھ نتھی کیا ہے۔ اُن کے مطابق یہ ابتداء ہے اور اگلے مہینوں میں کچھ اور ملکوں میں بھی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اِدھر جرمنی میں چانسلر میرکل کی کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین اور اُس کی سِسٹر پارٹی سمجھی جانے والی کرسچیئن سوشل یونین کے درمیان بھی اختلافات شدید ہوتے جا رہا ہے۔


موت کی سزا کا موضوع، تائیوانی فلم کن فیسٹیول میں

0 comments

موت کی سزا کا موضوع، تائیوانی فلم کن فیسٹیول میں

موت کی سزا کے موضوع پر بنائی گئی انعام یافتہ تائیوانی فلم مشہور زمانہ کن فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ تائیوان میں آج کل اس موضوع پر عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ 
23
منٹ دورانیے کی فلم ’دا ڈے ٹو چُوز‘ لیون لی کی بنائی گئی فلم ہے۔ لیون لی خود بھی موت کی سزا کے خلاف آواز اٹھانے والے وکیل ہیں، حالاں کہ خود ان کی اہلیہ کو قتل کر دیا گیا تھا، تاہم وہ اپنے اس اصولی موقف پر آج تک ڈٹے ہیں کہ کسی بھی مجرم کو موت کی سزا نہیں دی جانا چاہیے۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے شدید دباؤ کے باوجود تائیوان میں موت کی سزا پر عمل درآمد رائج ہے۔ اس سزا کی عمومی مخالفت کے باوجود تائیوان میں متعدد حلقے یہ ضرور کہتے ہیں کہ بعض انتہائی حالات میں اس سزا پر عمل درآمد ضروری ہے۔ مارچ میں تائیوان کے درالحکومت تائی پے کی ایک سڑک پر ایک شخص نے ایک چار سالہ بچی کا گلا کاٹ دیا تھا، جس کے بعد اس موقف میں اور بھی زیادہ شدت پیدا ہوئی تھی۔
سوچاؤ یونیورسٹی کے جرمن زبان کے شعبے کے طالب علم نے اپنے پروڈیوسز چینگ کواگ یو  کے ساتھ مل کر یہ فلم بنائی۔
لی کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’میں اس کم دورانیے کی فلم میں جو اصل بات کرنا چاہتا ہوں، وہ ہے موت کی سزا۔‘‘
یہ فلم کن فلم فیسٹیول کے کم دورانیے کی فلموں کے شعبے میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہے۔ 11 تا 22 مئی تک جاری رہنے والے اس فلم فیسٹیول میں شامل اس فلم کو گزشتہ ماہ کیلی فورنیا کے یونیورسل ملٹی کلچرل فلم فیسٹیول میں ’بہترین ڈرامہ‘ کا ایوارڈ مل چکا ہے۔


کینیڈا میں لگی بدترین آگ پر قابو پانے کی امید

0 comments

کینیڈا میں لگی بدترین آگ پر قابو پانے کی امید

کینیڈا کے علاقے فورٹ میکمری میں پھیلی آگ کو بجھانے والے عملے کو امید ہے کہ آج پیر کے روز موسم ٹھنڈا رہےگا جس سے ان کے کام میں آسانی پیدا ہو سکے گی۔ یہ کینیڈا کی تاریخ کی بدترین جنگلاتی آگ ہے۔
فورٹ میکمری کے جنگلات میں یکم مئی کو آگ لگی تھی، جو بعد ازاں پھیلتی چلی گئی اور کچھ ایسی تیزی سے پھیلی کہ اٹھاسی ہزار افراد کی آبادی والے اس علاقے میں لوگوں کو اپنا سامان اٹھانے کی بھی مہلت نہ ملی اور پوار علاقہ جل کر خاکستر ہو گیا۔
فائر بریگیڈ کے عملے کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر آگ بجھانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ تاہم موسم کی خشک رہنے میں کمی آنے کے باعث ان کو امید ہو چلی ہے کہ صورت حال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے البیرٹا کے فائر افسر چیڈ موریسن کا کہنا ہے، ’’موسم بہتر ہو گیا ہے اور ہم آگ پر قابو پا سکتے ہیں۔‘‘
جنگلاتی آگ کینیڈا کے کے آئل سینڈز ریجن میں پھیلی ہوئی ہے اور اتوار کے روز تک اس کا حجم دوگنا ہوچکا تھا۔
علاقے میں اتوار کے روز درجہ حرارت سترہ ڈگری سینڈی گریڈ تھا جس میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ محکمہء موسمیات کے مطابق آج پیر کے روز بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔
البیرٹا کی ریاستی حکومت کے مطابق آگ تین لاکھ پچانوے ہزار ایکٹر کے علاقے کو بھسم کر چکی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق اس علاقے میں گزشتہ دو ماہ سے بارش نہیں ہوئی تھی، جس کی وجہ سے موسم زیادہ گرم رہا۔
صوبائی حکومت کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ نزدیکی علاقوں میں عارضی رہائش گاہوں میں بھی رہنے پر مجبور ہیں۔
اس حوالے سے البیرٹا کے فائر افسر چیڈ موریسن کا کہنا ہے، ’’موسم بہتر ہو گیا ہے اور ہم آگ پر قابو پا سکتے ہیں۔‘‘
جنگلاتی آگ کینیڈا کے کے آئل سینڈز ریجن میں پھیلی ہوئی ہے اور اتوار کے روز تک اس کا حجم دوگنا ہوچکا تھا۔
علاقے میں اتوار کے روز درجہ حرارت سترہ ڈگری سینڈی گریڈ تھا جس میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ محکمہء موسمیات کے مطابق آج پیر کے روز بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔
البیرٹا کی ریاستی حکومت کے مطابق آگ تین لاکھ پچانوے ہزار ایکٹر کے علاقے کو بھسم کر چکی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق اس علاقے میں گزشتہ دو ماہ سے بارش نہیں ہوئی تھی، جس کی وجہ سے موسم زیادہ گرم رہا۔
صوبائی حکومت کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ نزدیکی علاقوں میں عارضی رہائش گاہوں میں بھی رہنے پر مجبور ہیں۔



Sunday, May 8, 2016

آج کا اسرائیل اور نازی جرمنی: فوجی جنرل کے بیان پر ہنگامہ

0 comments

آج کا اسرائیل اور نازی جرمنی: فوجی جنرل کے بیان پر ہنگامہ

آج کے اسرائیل اور نازی جرمنی کے حالات میں بظاہر مماثلت کا تاثر دینے والے اپنے ایک بیان کے باعث اسرائیلی فوج کے نائب سربراہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کابینہ کی وزیر مِیری ریگیو نے جنرل گولان کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
یروشلم سے اتوار آٹھ مئی کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق بہت متنازعہ ہو جانے والا یہ بیان اسرائیلی فوج کے ڈپٹی چیف آف سٹاف میجرل جنرل یائر گولان نے ابھی حال ہی میں دیا تھا۔
میجرل جنرل گولان نے اپنے اس بیان میں جو بات کہی تھی، اس سے تاثر یہ ملتا تھا کہ جیسے وہ موجودہ اسرائیل کو بظاہر اس نازی جرمن دور کی فضا سے مماثل قرار دے رہے ہوں، جب ہولوکاسٹ یا یہودیوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔
فوج کے نائب سربراہ نے ملک میں ہولوکاسٹ میموریل ڈے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ’آج کے اسرائیل میں ایسے شواہد نظر آتے ہیں، جو متلی پر مجبور کر دینے والی ان کارروائیوں کی یاد دلاتے ہیں، جو نازی جرمن دور میں کی گئی تھیں‘۔
جنرل گولان کے اس بیان پر اسرائیل میں فوراﹰ شدید تنقید شروع ہو گئی تھی اور اس بلند آواز تنقید میں یہودی قوم پسند سب سے آگے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملکی وزیر دفاع، فوج کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام میجر جنرل گولان کے حق میں بولنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ان شخصیات نے کھل کر کہا تھا کہ Yair Golan نے اپنے موقف کے ساتھ دراصل اسرائیلی معاشرے میں پائے جانے والے پریشان کن رجحانات کے خلاف صرف تنبیہ کی ہے۔
لیکن اس پر بھی اسرائیل میں اس موضوع پر بحث ختم نہ ہوئی اور کابینہ کی وزیر مِیری ریگیو Miri Regev نے تو یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ یائرگولان کو برطرف کیا جانا چاہیے۔ ملکی پارلیمان کی موجودہ رکن مِیری ریگیو کا تعلق لیکوڈ پارٹی سے ہے اور وہ ماضی میں ملکی فوج کی ترجمان کے طور پر بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔
اسرائیلی فورسز کے ڈپٹی چیف آف سٹاف کے حالیہ بیان پر آج اتوار کے روز ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی سرعام تنقید کی اور ان کے موقف کو رد کر دیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ہولوکاسٹ کے یادگاری دن کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل یائر گولان سے غلطی ہو گئی تھی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیتن یاہو نے ملکی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں جنرل گولان کے تبصرے کو غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا، ’’ایسے بیانات سے اسرائیل کو نقصان پہنچتا ہے اور ہولوکاسٹ کی خوفناکی کم ہو جاتی ہے۔‘‘